نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا اخلاص قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمت مریم کا قصہ
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سر بازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم
چبا لیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچہ
تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
مأخذ :
کتاب : shayad (Pg. 125) Author : jaun eliya مطبع : kitabi duniya (2008) اشاعت : 2008
جون ایلیا کی مزید شاعری
شعر
میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب
میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب
اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا
شعر
اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
شعر
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
شعر
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
زندگی کس طرح بسر ہوگی
زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
شعر
دل نہیں لگ رہا محبت میں
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
شعر
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں